ابنا: ایم کےانٹونی نے صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےکہاکہ پاکستان نےہندوستان سےاپیل کی ہےکہ تعلقات میں تدریجی بہتری کےتناظرمیں اپنی فوجیں سیاچن سےباہرنکال لے۔ہندوستانی وزیردفاع کےبقول پاکستان کےصدر آصف علی زرداری نےبھی دہلی میں ہندوستانی وزیراعظم سےاپنی حالیہ ملاقات میں سیاچن کےعلاقے میں سرحدی اختلافات اور کشمیرکےتنازع کےحل پرتاکیدکی ہے۔اگرچہ سیاچن گلیشئر سےہندوستان اورپاکستان کےفوجیوں کےانخلاء کامسئلہ برسوں سےزیربحث رہا ہے لیکن گذشتہ مہینےاس علاقےمیں برف کاتودہ گرنےاوراس میں تقریباایک سوپینتیس فوجیوں کےدفن ہوجانے کےبعد پاکستان کی جانب سے سیاچن گلیشئرسے دونوں ملکوں کےفوجیوں کوہٹانےکامعاملہ سنجیدگی سےاٹھایاگیاہے۔ درایں اثنا سیاچن گلیشئر پر فوج تعینات رکھنےکےبھاری اخراجات کےباعث بھی ہندوستان اورپاکستان اس علاقےسےاپنےفوجی باہرنکالنے پرمائل ہیں۔جبکہ پاکستان کےوزيردفاع احمدمختار نے اعلان کیاہےکہ ان کاملک یکطرفہ طورپر سیاچن سےاپنےفوجی باہرنکالنےکےلئےتیارنہيں ہے اورہندوستان کوبھی اس علاقےسےاپنےفوجی نکالنےکی تیاری کرنی چاہئے۔پاکستان کےچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی نےبھی اس سلسلےمیں کہاہے کہ ہندوستان نےسیاچن کےعلاقےسے اپنےفوجی نکالنے پرکوئي لچک نہيں دکھائی ہے اوراپنےسابقہ موقف پرہی اڑا ہوا ہے ۔اس سےپتہ چلتاہےکہ ہندوستان اورپاکستان نےسیکورٹی اورفوجی میدان میں معاشی اور تجارتی تعلقات کےمیدان میں اہم قدم اٹھانےکےباوجود اب بھی ایک دوسرے پربھروسہ نہیں کرتے ۔ سیاچن گلیشیئر ہندوستان اورپاکستان کاسب سےاونچاسرحدی گلیشئرہے ۔جیوپولیٹیکل لحاظ سے سیاچن گلیشئر عسکری اہمیت کاحامل ہے اورہندوستان اورپاکستان نےاس علاقےمیں اپنی فوج تعینات کررکھی ہے اور دونوں ہی ملک اس پراپناتسلط چاہتےہیں۔ اس بناپر سیاسی ماہرین کی نظرمیں سیاچن گلیشئرسےفوجیوں کوہٹانےکامسئلہ کئی لحاظ سے اہمیت کاحامل ہے۔اول یہ کہ اس سلسلےمیں اتفاق رائے نئی دہلی اور اسلام آباد کےدرمیان کشمیرسمیت دوسرےبہت سے اختلافات کےحل کی زمین ہموارکرسکتاہے کیونکہ سیاچن گلیشئرکی اسٹریٹیجک اہمیت ہے اوراس پراتفاق رائےنہایت اہم ہے۔اوراس اتفاق رائےکی دوسری اہمیت مالی مسائل سےمتعلق ہے جس نےہندوستان اور پاکستان پربھاری اخراجات مسلط کررکھےہیں۔جبکہ غربت ان دونوں ملکوں کاسنگین مسئلہ ہے اور اس کےفوجی اخراجات میں کمی سماجی اورتعمیری بجٹ میں اضافےکاسبب بن سکتےہیں۔سیاچن گلیشئرسے فوجیوں کوہٹانےکی تیسری اہمیت اس امرکی وجہ سےہےکہ اس گلیشئرسے فوج ہٹانےسے جانی اورمالی نقصان میں کمی کےساتھ ہی دہشتگردگروہوں کو واضح پیغام بھی ہوگاکہ وہ اب دونوں ملکوں کےدیرینہ اختلافات اورکشیدگی سےفائدہ نہيں اٹھاسکتے۔ہندوستان اورپاکستان میں گذشتہ برسوں میں ہونےوالے دہشتگردانہ حملوں سےپتہ چلتاہےکہ دہشتگرد گروہوں کی جانب سے سیکورٹی خطرات کاایک سبب ، ہندوستان اورپاکستان کےدیرینہ تعلقات میں کشیدگی پایاجانا ہے اور یہ گروہ اس کشیدگي کاسہارا لےکردونوں ملکوں کونقصان پہنچاتےہیں۔.......
/169